Skip to Content

بسم الله الرحمن الرحيم

The Miracle of Holy Qur’ān

قرآن وہ کلام ہے جو  اپنے الفاظ اور معنی کے ساتھ  ہمارے آقا محمد   پر نازل ہوا۔ لہٰذا قرآن کےالفاظ اور معنی دونوں ایک ساتھ ہیں۔ صرف معنی کو قرآن نہیں کہا جاسکتااور الفاظ  مخصوص ترتیب کے اظہار کے بغیر معنی نہیں رکھتے ۔  لہذا، قرآن کو اس کے الفاظ کی وضاحت کے  ساتھ بیان کیا گیا ہے۔  اس طرح ، اللہ سبحانہ وتعالی نے اس کے بارے میں کہا کہ یہ عربی زبان میں ہے اور قرآن میں فرمایا:

} إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ قُرْآَنًا عَرَبِيًّا{

ہم نے اس قرآن کو عربی(زبان)  میں نازل کیا ہے (يوسف: 2)

}كِتَابٌ فُصِّلَتْ آَيَاتُهُ قُرْآَنًا عَرَبِيًّا{

ایک ایسی کتاب جس کی آیات خوب کھول کر بیان کی گئی ہیں ( فصلت: 2)

}قُرْآَنًا عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ{

ایسا قرآن جو عربی زبان میں ہے، جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے ( الزمر: 28 )

}أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ قُرْآَنًا عَرَبِيًّا{

اور اسی طرح ہم نے آپؐ پر عربی زبان میں قرآن نازل کیا (الشورى: 7 )

}إِنَّا جَعَلْنَاهُ قُرْآَنًا عَرَبِيًّا{

کہ ہم نے اِسے عربی زبان کا قرآن بنایا ہے ( الزخرف: 3 )

عربی زبان قرآن کے الفاظ کی صفت ہے نہ کہ اس کے معانی کی صفت،  کیونکہ اس کے معنی انسانی معنی ہیں  عربی معنی نہیں۔یہ تمام انسانیت کے لیے ہے نہ کہ صرف عربوں کے لیے۔ اور جہاں تک اللہ تعالی کا قول ہے:

}وَكَذَلِكَ أَنْزَلْنَاهُ حُكْمًا عَرَبِيًّا{

اور اسی طرح ہم نے اس (قرآن) کو حکم بنا کر عربی زبان میں اتارا ہے ( الرعد: 37 )

اس کا مطلب ہے کہ یہ عربوں کی زبان میں ترجمہ کی گئی حکمت ہے نہ کہ یہ عربی کی حکمت ہے۔ یہاں لفظ عربی کا استعمال الفاظِ قرآن  کی صفت بیان کر رہا ہے اور کچھ نہیں۔اس (قرآن ) کےالفاظ کی وضاحت عربی کے سواکسی اور  زبان میں  نہیں کی جاسکتی۔ خواہ وہ حقیقی ہو یا مجازی، اس کی عربی کے علاوہ کوئی اور شناخت نہیں ہے ۔ اسی لیے کسی اور زبان میں اس کے ترجمے کو قرآن کہنا درست نہیں ۔ عربی قرآن کی حتمی زبان ہے۔ اس (قرآن ) کے الفاظ صرف عربی زبان میں ہیں۔

قرآن محمد  کا معجزہ ہے۔ اگرچہ نبیؐ کے اور بھی معجزات ہیں جو آپؐ کے ہاتھوں پر پیش آئے، جو قرآن سے مختلف ہیں ، جیسا کہ خود قرآن مجید اور سنت کی صحیح روایات میں مذکور ہے، لیکن آپؐ نے بقیہ معجزات سےلوگوں کو نہیں للکارا بلکہ صرف قرآن  کے ذریعے للکارا تھا۔ اسی لیے  ہم کہتے ہیں کہ قرآن محمد  کاوہ معجزہ ہے جس سے نزولِ قرآن کے وقت سے قیامت تک آپؐ کا نبی ہونا  ثابت ہوتا ہے۔قرآن نے عربوں کو اس کی مثال پیش کرنے میں عاجز کردیا اور انہیں للکارا کہ وہ اس  کی مثل لائیں۔اللہ تعالی نے ان کو للکار کر کہا:

}وَإِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ{

اور اگر تم کو اس (کتاب) میں، جو ہم نے اپنے بندے (محمدﷺ) پر نازل فرمائی ہے کچھ شک ہو تو اسی طرح کی ایک سورت تم بھی بنا لاؤ اور اللہ کے سوا جو تمہارے مددگار ہوں ان کو بھی بلالو اگر تم سچے ہو ( البقرة: 23 )

}قُلْ فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِثْلِهِ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ{

کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تم بھی اس طرح کی ایک سورت بنا لاؤ اور اللہ کے سوا جن کو تم بلا سکو بلا بھی لو ( يونس: 38 )

}أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ قُلْ فَأْتُوا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِثْلِهِ مُفْتَرَيَاتٍ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ{

کیا یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے یہ کتاب خود گھڑ لی ہے؟ کہو، "اچھا یہ بات ہے تو اس جیسی گھڑی ہوئی دس سورتیں تم بنا لاؤ اور اللہ کے سوا اور جو جو (تمہارے معبود) ہیں اُن کو مدد کے لیے بلا سکتے ہو تو بلا لو اگر تم (انہیں معبود سمجھنے میں) سچے ہو (هود: 13)

}قُلْ لَئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآَنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا{

کہہ دو کہ اگر انسان اور جن اس بات پر مجتمع ہوں کہ اس قرآن جیسا بنا لائیں تو اس جیسا نہ لاسکیں گے ، چاہے وہ ایک دوسرے کے مددگار ہی کیوں نہ ہوں (الإسراء: 88 )

چنانچہ جن لوگوں کو قرآن نے چیلنج کیا تھا وہ قرآن جیسا لانے سے قاصر رہے، ان کی اس للکار (چیلنج)سے نمٹنے کی نااہلی متاواتر روایات سے ثابت ہے تاریخ کو نہ تو کوئی ایسا علم ہے اور نہ ہی کسی نے ایسی خبر نقل کی ہے کہ ان میں سے کوئی بھی اس جیسا لے کر آ سکا ہو۔

یہ للکار(چیلنج) صرف ان لوگوں کےلیےمخصوص نہیں جن سے اس وقت خطاب کیا گیا تھا، بلکہ یہ تاقیامت عام للکار ہے ۔ کیونکہ  لحاظ الفاظ کی عمومیت کا ہے، سبب خصوصیت کا نہیں۔ لہذا قرآن پوری انسانیت کو للکارتا ہے، جس وقت سے یہ نازل ہوا اور قیامت کے وقت تک، کہ اس جیسی مثال لے کر  آئيں۔ اسی وجہ سے قرآن صرف ان  عربوں کے لیے معجزہ نہیں جو رسول کے زمانے میں رہتے تھے، اور نہ ہی یہ صرف عربوں کے لیے ہے جو کسی بھی زمان و مکان میں ہوں، بلکہ یہ پوری انسانیت کے لیےایک معجزہ ہے۔ اس ضمن میں ایک قبیلے سے دوسرے قبیلے کے درمیان  کوئی فرق نہیں کیونکہ اس کا خطاب پوری انسانیت سے ہے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:

}وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ{

اور (اے نبیؐ،) ہم نے تم کو تمام ہی انسانوں کے لیے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے (سبا: 28)

}وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ{

اللہ کے سوا جس جس کو بُلا سکتے ہو مدد کے لیے بُلا لو  (يونس: 38)

اس میں تمام انسانیت شامل ہے کیوکہ قرآن ہمیں تمام انسانوں اور جنوں میں اس کی ناقابلیت کے بارے میں بتاتا ہے، اللہ سبحانہ وتعالی نے بتایا:

}قُلْ لَئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآَنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِه{

کہہ دو کہ اگر انسان اور جن اس بات پر مجتمع ہوں کہ اس قرآن جیسا بنا لائیں تو اس جیسا نہ لاسکیں گے (الإسراء: 88)

اس قرآن جیسی کوئی چیز لانے میں عربوں کی نااہلی، اور تمام نوعِ انسانی کی نااہلی، در حقیقت خود قرآن مجید کی ذات سے منسلک ہے ۔ جب عرب قرآن سنتے  تو وہ اس کی بلاغت کے سحر میں گرفتار ہو  جاتے، حتی کہ ولید بن مغیرہ نے نبیؐ کو قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئےسنا تو لوگوں سے کہا:

والله ما منكم رجل أعرف بالأشعار مني ولا أعلم برجزه وقصيده مني والله ما يشبه الذي يقوله شيئاً من هذا، والله إن لقوله الذي يقوله لحلاوة وإن عليه لطلاوة، وانه لمورق أعلاه مغدق أسفله، وإنه ليعلو ولا يعلى عليه

اللہ کی قسم! تم میں کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو مجھ سے زیادہ شاعری پر عبور رکھتا ہو ، یا مجھ سے زیادہ شاعرانہ رجز اور قصیدہ کا علم رکھتا ہو! اللہ کی قسم!  اس کے قول (قرآن)  کی مشابہت میں کوئی شے نہیں ، اللہ کی قسم! اس کے قول میں ایک حلاوت (مٹھاس) اور آب وتاب (خوبصورتی) ہے ۔ اس کی بلندی  پر بہارو تروتازگی ہے اور اس کا نچلا حصہ  زرخیز اور شاداب ہے۔ بے شک یہ سب سے اعلیٰ ہے اور اس سے اعلیٰ  کچھ نہیں۔

باوجود اس کے ولید ایمان نہیں لایا اور وہ اپنے کفر پر ڈٹا رہا۔پس معجزہ کا تعلق خود قرآن کی ذات سے ہے کیونکہ جن لوگوں نے اسے سنا اور جو قیامت تک سنیں گے وہ محض اس کے سننے سے اس کی قوتِ تاثیر  و قوتِ  بلاغت کی قدرت سے حیرت زدہ رہ جاتے ہیں ، چاہے وہ صرف ایک جملہ ہی کیوں نہ سنیں:

}لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ{

(اُس روز پکار کر پوچھا جائےگا) آج بادشاہی کس کی ہے؟ (غافر: 16)

}وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ{

اور قیامت کے دن  پوری زمین اُس کی مٹھی میں ہو گی (الزمر: 67)

}وَإِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْبِذْ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ{

اور اگر تم کو کسی قوم سے خیانت کا اندیشہ ہو تو (ان کا عہد) انہیں کی طرف پھینک دو (اور) برابر (کا جواب دو) (الأنفال: 58)

}يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ. يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ{

اےلوگو! اپنے رب سے ڈرو، بیشک قیامت کا زلزلہ بڑی (ہولناک) چیز ہے۔ جس دن تم اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچّے سے غافل ہو جالیےگی، ہر حاملہ کا حمل گر جالیےگا، اور لوگ تم کو مدہوش نظر آئیں گے، حالانکہ وہ نشے میں نہ ہوں گے، بلکہ اللہ کا عذاب بڑا سخت ہوگا (الحج: 2-1)

اور اس طرح قرآن کی ایک یا ایک سے زیادہ آیات کی تلاوت کی جائے تو قرآن کے الفاظ، اسالیب،اور مقاصد انسانی احساسات کو پوری طرح   گرفت میں لے لیتے ہیں۔

قرآن کے معجزہ  کا اظہاراس کی فصاحت، بلاغت اور مدهوش کردنے والی بلندی سے ظاہر ہوتا  ہے۔ اس کی نشاندہی قرآن کے معجزاتی انداز سے ہوتی ہے۔ بیشک اس کا اسلوب  واضح ، پُر قوت اور  پُر جمال ہے جس کی مماثلت سے انسان عاجز ہے۔

اور قرآن کا اسلوب معنوں کی ترتیب میں ہے جوکہ اسکے  مربوط  الفاظ میں ہے، یا یہ معانوں (مطالب) کی لغوی عبارات (لسانی اصطلاٍحات) میں  اظہار  ہے ۔اوران معانوں کی ادائیگی سے اسلوب  کی وضاحت نمایاں ہوتی ہےجس کے اظہار کا ارادہ  جملے میں بیان کیا گیا ہو ۔ 

}وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَا تَسْمَعُوا لِهَذَا الْقُرْآَنِ وَالْغَوْا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُونَ{

اور کافر  کہتے ہیں "اِس قرآن کو ہرگز نہ سنو اور (جب یہ سنایا جائے تو) اس میں خلل ڈالو، شاید کہ اس طرح تم غالب آ جاؤ" (فصلت: 26)

 اسلوب (انداز) کی قوت  کا اظہار معنی کے ہم آہنگ الفاظ کے انتخاب میں ہوتاہے۔ اس طرح کہ لطیف معنی کا اظہار لطیف لفظ کے ساتھ کیا گیا اور جذباتی معنی کا اظہار جذباتی لفظ کے ساتھ کیا گیا اور نفرت کےمعنی کا اظہار نفرت والے لفظ کے ساتھ کیا گیا ہے وغیرہ ...

}وَيُسْقَوْنَ فِيهَا كَأْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِيلًا. عَيْنًا فِيهَا تُسَمَّى سَلْسَبِيلًا{

اور انہیں وہاں ایسی (شراب کے) جام پلائےجائیں گے جس میں زنجبیل کی آمیزش ہوگی۔ جنت کا ایک چشمہ جس کا نام سلسبیل ہے (الانسان: 18-17)

}إِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا. لِلطَّاغِينَ مَآَبًا. لَابِثِينَ فِيهَا أَحْقَابًا{

بیشک جہنم ایک گھات ہے۔سرکشوں کا ٹھکانا۔ جس میں وہ مدتوں پڑے رہیں گے۔ (النبإ: 23-21)

}تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَى{

یہ انتہائی ناانصافی کی تقسیم ہے  (النجم: 22)

}إِنَّ أَنْكَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيرِ{

یقیناً آوازوں میں سب سے بدتر آواز گدھوں کی آواز ہے (لقمان: 19)

جہاں تک اسلوب کی خوبصورتی کا تعلق ہے تو یہ اس کے معنی میں خالص اور مناسب تاثرات کا انتخاب کرکے اور الفاظ اور معانی کے ساتھ جو اس کے ساتھ جملے اور جملوں میں ملتا ہے:

}رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ . ذَرْهُمْ يَأْكُلُوا وَيَتَمَتَّعُوا وَيُلْهِهِمُ الْأَمَلُ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ{

وه بھی وقت ہوگا کہ کافر لوگ آرزو کریں گے کہ اے کاش وہ مسلمان ہوتے۔ (اے محمد) ان کو اُن کے حال پر رہنے دو کہ کھالیں اور فائدے اُٹھالیں اور امید ان کو دنیا میں مشغول کیےرہے عنقریب ان کو (اس کا انجام) معلوم ہو جالیےگا (الحجر: 3-2)

جو لوگ قرآن مجید پر غور کرتے ہیں وہ اس میں عظمت کی بلندی کوپاتے ہیں  جو اس انداز ، وضاحت ، طاقت اور خوبصورتی کی خصوصیت رکھتا ہے۔اس وضاحت ، قوت اور جمال کو سنیں:

}وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُجَادِلُ فِي اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَلَا هُدًى وَلَا كِتَابٍ مُنِيرٍ . ثَانِيَ عِطْفِهِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّه{

اور لوگوں میں کوئی ایسا بھی ہے جو اللہ (کی شان) میں بغیر علم (ودانش) کے اور بغیر ہدایت کے اور بغیر کتابِ روشن کے جھگڑتا ہے(اور تکبر سے) گردن موڑ لیتا (ہے) تاکہ (لوگوں کو) اللہ کے رستے سے گمراہ کردے  (الحج: 9-8)

}هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ فَالَّذِينَ كَفَرُوا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِنْ نَارٍ يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوسِهِمُ الْحَمِيمُ . يُصْهَرُ بِهِ مَا فِي بُطُونِهِمْ وَالْجُلُودُ * وَلَهُمْ مَقَامِعُ مِنْ حَدِيدٍ .كُلَّمَا أَرَادُوا أَنْ يَخْرُجُوا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ أُعِيدُوا فِيهَا وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ{

یہ دو (فریق) ایک دوسرے کے دشمن اپنے رب (کے بارے) میں جھگڑتے ہیں وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اُن کے لیے آگ کے لباس کاٹے جا چکے ہیں، اُن کے سروں پر کھَولتا ہوا پانی ڈالا جائےگا ۔ جس سے اُن کے پیٹ کے اندر کے حصے اور کھالیں گل جائیں گی۔ اور ان (کے مارنے ٹھوکنے) کے لیےلوہے کے ہتھوڑے ہوں گے۔ جب کبھی وہ گھبرا کر جہنّم سے نکلنے کی کوشش کریں گے پھر اُسی میں دھکیل دیے جائیں گے اور (کہا جائے گا کہ) جلنے کے عذاب کا مزہ چکھو (الحج: 22-19)

}يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَنْ يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ وَإِنْ يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَا يَسْتَنْقِذُوهُ مِنْهُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ{

لوگو! ایک مثال بیان کی جاتی ہے اسے غور سے سنو۔ کہ جن لوگوں کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتے اگرچہ اس کے لیےسب مجتمع ہوجائیں۔ اور اگر ان سے مکھی کوئی چیز چھین لے جالیےتو اسے  چھڑا بھی نہیں سکتے۔ طالب اور مطلوب دونوں کمزور ہیں  (الحج: 73 )

قرآن مجید  کا اسلوب ایک خاص طرز کا اظہار ہے۔ اس کے الفاظ کی ترتیب (نظم) اشعار کے وزن کے طریقہ کار کی پیروی نہیں کرتی اور نہ ہی یہ آزاد نثر  (سجع وقافیہ کی پابند نہ ہو)کے طریقہ کار کے مطابق اور نہ ہی یہ النثر المزدوج (شاعری اور آزاد نثر سے دوہری مشابہت)اور نہ ہی النثر المسجوع (شاعرانہ نثر )کے طریقہ کار  پر ہے۔ یہ ایک انوکھا اسلوب ہے  جسے  عہدِ رسالت کے  عرب اور ان سے  پہلے  کے  عرب  بھی واقف نہیں  تھے۔ عربوں پر قرآن کے غیر معمولی اثر کے باعث وہ اس بات کا ادراک کرنے سے قاصر تھے کہ قرآن اس اعجاز  تک کس طرح  پہنچا۔تو انہوں نے کہنا شروع کیا ، جیسا کہ قرآن مجید میں ذکر کیا گیا ہے:

}إِنَّ هَذَا لَسِحْرٌ مُبِينٌ{

بیشک  یہ تو کھلا جادو ہے (يونس: 76 )

اور انھوں نے کہنا شروع کیا کہ بیشک یہ شاعر کا قول ہے اور بیشک یہ کاہن کا قول  ہے لہذا اللہ سبحابہ وتعالی نے اس  کا رد کرتے ہوئےفرمایا:

}وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلًا مَا تُؤْمِنُونَ * وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ{

اور یہ کسی شاعر کا قول نہیں ، تم لوگ کم ہی ایمان لاتے ہو۔ اور نہ یہ کسی کاہن کا قول ہے، تم لوگ کم ہی غور کرتے ہو (الحاقة: 42-41)

قرآن کا ایک خاص أسلوب اور ایک منفرد طرز  ہر لحاظ سے واضح ہے۔  لہذا ارشاد ہوتاہے:

}وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ{

اور انہیں ذلیل و رسوا کرے گا اور ان کے مقابلہ میں تمہاری مدد کرے گا اور مومنوں کے دل ٹھنڈے کرے گا (التوبة: 14)

ارشاد ہوتاہے:

}لنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ{

تم ہرگز نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی وہ چیزیں (اللہ کی راہ میں) خرچ نہ کرو جنہیں تم عزیز رکھتے ہو ( آل عمران: 92)

یہ نثر،شاعری کے قریب ہے، اگر ان دونوں آیات کو ترتیب سے رکھا جائے تو شعر کے دو مصرے اس طرح ہوں گے۔

ويـخـزهم وينـصـركم عليهم 
لــن تـنـــالـوا الـبـر حـتـى

 

ويشـف صـدور قـوم مؤمنـين
تـنــفــقـوا مـمــا تـحـبـون

تاہم یہ آیات  شاعری نہیں ہیں، بلکہ ایک منفرد نوع (قسم) کی نثر ہیں ۔ جب آپ قرآن میں تلاش کریں گے تو آپ کو اس قسم نثر ملے گی:

}وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ . وَمَا أَدْرَاكَ مَا الطَّارِقُ . النَّجْمُ الثَّاقِبُ . إِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَمَّا عَلَيْهَا حَافِظٌ . فَلْيَنْظُرِ الْإِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ . خُلِقَ مِنْ مَاءٍ دَافِقٍ . يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ {

قسم ہے آسمان کی اور رات کو نمودار ہونے والے کی۔ اور تم کیا جانو کہ وہ رات کو نمودار ہونے والا کیا ہے؟  چمکتا ہوا ستارہ۔ کوئی جان ایسی نہیں ہے جس کے اوپر کوئی نگہبان نہ ہو۔ پھر ذرا انسان یہی دیکھ لے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے۔ ایک اچھلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔ جو پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے (الطارق: 7-1)

یہ شاعری کی ہر قسم سے دور ایک نثر ہے۔ لہذا ارشاد ہوتاہے:

}وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّهِ وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَحِيمًا{

اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس لیے کہ اللہ کے حکم سےاس کی اطاعت کی جالیےاگر وہ لوگ جب اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تھے آپ کی خدمت میں حاضر ہو جاتے اوراللہ سے معافی مانگتے اور رسولؐ بھی ان کے للیےمغفرت طلب کرتے تو وہ  ضرور اللہ کو توبہ قبول فرمانے والا نہایت مہربان پاتے (النساء: 64)

}فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا{

نہیں(اے محمدؐ)، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں (النساء: 65)

یہ  نثر میں اپنے فقرہ (عبارت) اور اسلوب کو طول بھی دیتاہے، لہذا ارشاد ہوتاہے:

}وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا . وَالْقَمَرِ إِذَا تَلَاهَا . وَالنَّهَارِ إِذَا جَلَّاهَا . وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا{

سورج اور اُس کی دھوپ کی قسم۔ اور چاند کی قسم جبکہ وہ اُس کے پیچھے آتا ہے۔ اور دن کی قسم جبکہ وہ (سورج کو) نمایاں کر دیتا ہے۔ اور رات کی قسم جبکہ وہ (سورج کو) ڈھانک لیتی ہے (الشمس: 4-1)

یہ نثر میں  فقرہ (عبارت) اور اسلوب  کو قصر  (مختصر ) بھی کرتا ہے، حالانکہ یہ دونوں فقرہ نثر کی مثالیں ہیں۔ بعض اوقات آپ کو آزاد نثر میں بنا‏ئی ہوئی عبارت ملے گی، اس طرح یہ قول میں آزاد ہوگا۔ لہذا ارشاد ہوتاہے:

}يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الَّذِينَ قَالُوا آَمَنَّا بِأَفْوَاهِهِمْ وَلَمْ تُؤْمِنْ قُلُوبُهُمْ وَمِنَ الَّذِينَ هَادُوا سَمَّاعُونَ لِلْكَذِبِ سَمَّاعُونَ لِقَوْمٍ آَخَرِينَ لَمْ يَأْتُوكَ يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ مِنْ بَعْدِ مَوَاضِعِهِ يَقُولُونَ إِنْ أُوتِيتُمْ هَذَا فَخُذُوهُ وَإِنْ لَمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوا وَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ فِتْنَتَهُ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهُ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا أُولَئِكَ الَّذِينَ لَمْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يُطَهِّرَ قُلُوبَهُمْ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَلَهُمْ فِي الْآَخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ{

اے پیغمبرؐ! تمہارے لیے باعث رنج نہ ہوں وہ لوگ جو کفر کی راہ میں بڑی تیز گامی دکھا رہے ہیں خواہ وہ اُن میں سے ہوں جو منہ سے کہتے ہیں ہم ایمان لائےمگر دل اُن کے ایمان نہیں لائے، یا اُن میں سے ہوں جو یہودی بن گئے ہیں، جن کا حال یہ ہے کہ جھوٹ کے لیے کان لگاتے ہیں، اور دوسرے لوگوں کی خاطر، جو تمہارے پاس کبھی نہیں آئے، سن گن لیتے پھرتے ہیں، کتاب اللہ کے الفاظ کو اُن کا صحیح محل متعین ہونے کے باوجود اصل معنی سے پھیرتے ہیں، اور لوگوں سے کہتے ہیں کہ اگر تمہیں یہ حکم دیا جائےتو مانو نہیں تو نہ مانو جسے اللہ ہی نے فتنہ میں ڈالنے کا ارادہ کر لیا ہو تو اس کو اللہ کی گرفت سے بچانے کے لیے تم کچھ نہیں کرسکتے، یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے پاک کرنا نہ چاہا، ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں سخت سزا (المائدة: 41)

آپ کو یہ شاعرانہ نثر میں بنا‏ئی ہوئی عبارت نظر آئےگی، اس طرح یہ شاعرانہ نثر میں بولا جائےگا۔ لہذا ارشاد ہوتاہے:

}يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ . قُمْ فَأَنْذِرْ . وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ . وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ . وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ . وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ . وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ{

اے اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے۔ اٹھو اور خبردار کرو۔ اور اپنے رب کی بڑائی کا اعلان کرو۔ اور اپنے کپڑے پاک رکھو۔ اور گندگی سے دور رہو۔ اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لیے۔ اور اپنے رب کی خاطر صبر کرو (المدثر: 7-1)

آپ قرآن میں ازدواج (ہم وزن اور ہم قافیہ ) اور يزدوج (دوہری) کی عظمت (بلندی) پائیں گے، لہذا ارشاد ہوتاہے:

}أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ . حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ . كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ . ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ . كَلَّا لَوْ تَعْلَمُونَ عِلْمَ الْيَقِينِ . لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ{

تم لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اور ایک دوسرے سے بڑھ کر دنیا حاصل کرنے کی دھن نے غفلت میں ڈال رکھا ہے۔ یہاں تک کہ (اسی فکر میں) تم لب گور تک پہنچ جاتے ہو۔ ہرگز نہیں، عنقریب تم کو معلوم ہو جائےگا۔ پھر (سن لو کہ) ہرگز نہیں، عنقریب تم کو معلوم ہو جائے گا۔ ہرگز نہیں، اگر تم یقینی علم کی حیثیت سے (اِس روش کے انجام کو) جانتے ہوتے (تو تمہارا یہ طرز عمل نہ ہوتا)۔ تم دوزخ دیکھ کر رہو گے (التكاثر: 6-1)

آپ کوازدواج(ہم وزن اور ہم قافیہ )  کی طوالت ملے  گی، لہذا ارشاد ہوتاہے:

}قُتِلَ الْإِنْسَانُ مَا أَكْفَرَهُ . مِنْ أَيِّ شَيْءٍ خَلَقَهُ . مِنْ نُطْفَةٍ خَلَقَهُ فَقَدَّرَهُ . ثُمَّ السَّبِيلَ يَسَّرَهُ . ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَهُ . ثُمَّ إِذَا شَاءَ أَنْشَرَهُ . كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَا أَمَرَهُ . فَلْيَنْظُرِ الْإِنْسَانُ إِلَى طَعَامِهِ . أَنَّا صَبَبْنَا الْمَاءَ صَبًّا . ثُمَّ شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّا . فَأَنْبَتْنَا فِيهَا حَبًّا . وَعِنَبًا وَقَضْبًا . وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا . وَحَدَائِقَ غُلْبًا . وَفَاكِهَةً وَأَبًّا{

لعنت ہو انسان پر، کیسا سخت منکر حق ہے یہ۔ کس چیز سے اللہ نے اِسے پیدا کیا ہے؟۔ نطفہ کی ایک بوند سے اللہ نے اِسے پیدا کیا، پھر اِس کی تقدیر مقرر کی۔ پھر اِس کے لیے زندگی کی راہ آسان کی۔ پھر اِسے موت دی اور قبر میں پہنچایا۔ پھر جب چاہے وہ اِسے دوبارہ اٹھا کھڑا کرے۔ ہرگز نہیں، اِس نے وہ فرض ادا نہیں کیا جس کا اللہ نے اِسے حکم دیا تھا۔ پھر ذرا انسان اپنی خوراک کو دیکھے۔ ہم نے خوب پانی لنڈھایا۔ پھر زمین کو عجیب طرح پھاڑا۔ پھر اُس کے اندر اگالیےغلے۔اور انگور اور ترکاریاں۔ اور گھنے باغ۔ اور طرح طرح کے پھل، اور چارے (عبس: 31-17)

جبکہ کلام کے درمیان میں سجع (ایسی نثر جس کے جملوں کے آخرى حرفوں پر حرکت اور سکون کی یکسانیت ملحوظ ہو، قافیہ بند کلام جس میں وزنِ شعر ملحوظ نہ ہو ) کی ایک صنف  سے دوسری صنف میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ اس طرح سجع میں آگے بڑھتے ہوئےارشاد ہوتاہے:

}فَإِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ . فَذَلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ . عَلَى الْكَافِرِينَ غَيْرُ يَسِيرٍ{

اچھا، جب صور میں پھونک ماری جائےگی۔ وہ دن بڑا ہی سخت دن ہوگا۔ کافروں کے لیے ہلکا نہ ہوگا (المدثر:10-8)

جب وہ آیت کی سجع  تبدیل  کرنے کے فوراً بعد سجع  کو پچھلی آیت سے متصل  کردیتا ہے، لہذا ارشاد ہوتاہے:

}ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا . وَجَعَلْتُ لَهُ مَالًا مَمْدُودًا.وَبَنِينَ شُهُودًا . وَمَهَّدْتُ لَهُ تَمْهِيدًا . ثُمَّ يَطْمَعُ أَنْ أَزِيدَ . كَلَّا إِنَّهُ كَانَ لِآَيَاتِنَا عَنِيدًا . سَأُرْهِقُهُ صَعُودًا{

چھوڑ دو مجھے اور اُس شخص کو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا ہے۔ بہت سا مال اُس کو دیا۔ اس کے ساتھ حاضر رہنے والے بیٹے دیے۔ اور اس کے لیے ریاست کی راہ ہموار کی۔ پھر وہ طمع رکھتا ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں۔ ہرگز نہیں، وہ ہماری آیات سے عناد رکھتا ہے۔میں تو اسے عنقریب ایک کٹھن چڑھائی چڑھواؤں گا (المدثر:17-11)

پھر آیت کی سجع  تبدیل  کرنے کے فوراً بعد سجع  کو پچھلی آیت سے متصل  کردیتا ہے، لہذا ارشاد ہوتاہے:

}انَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ . فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ . ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ . ثُمَّ نَظَرَ . ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ . ثُمَّ أَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرَ{

اس نے سوچا اور کچھ بات بنانے کی کوشش کی۔ تو اللہ کی مار اس پر، کیسی بات بنانے کی کوشش کی۔ ہاں، اللہ کی مار اُس پر، کیسی بات بنانے کی کوشش کی۔ پھر (لوگوں کی طرف) دیکھا۔ پھر پیشانی سیکڑی اور منہ بنایا۔ پھر پلٹا اور تکبر میں پڑ گیا (المدثر:23-18)

اس طرح سے پورے قرآن کے معائنہ  پر  آپ کو عربوں کی شاعری یا نثر  کے اسلوب کی مختلف انواع  میں سے  کسی بھی نوع پر لازماً   پوری نہیں اترتی، نہ ہی یہ عرب اور نہ ہی کسی اور انسان کے اقوال سے کسی طرح کی مشابہت رکھتی ہے۔

پھر بے شک آپ دیکھیں گے کہ اس کا اسلوب واضح ، قوی اور جميل ہے جو معانوں کا اظہار  اس انداز  کی عبارت میں  بیان کرتا ہے جس میں معانی  کی انتہائی موزوں عکاسی  ہو۔ جب معنی لطیف ہو تو آپ کو یہ ارشاد ملے گا:

}إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ مَفَازًا . حَدَائِقَ وَأَعْنَابًا . وَكَوَاعِبَ أَتْرَابًا. وَكَأْسًا دِهَاقًا{

یقیناً متقیوں کے لیے کامرانی کا ایک مقام ہے۔ باغ اور انگور۔ اور نوخیر ہم سن لڑکیاں۔ اور چھلکتے ہولیےجام (النبا:34-31)

لطیف الفاظ اور روبہ  روانی (پرتسلسل)  جملوں کا استعمال۔ جب معنی محکم (پر قوّت) ہو تو آپ کو یہ ارشاد ملے گا:

}إِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا . لِلطَّاغِينَ مَآَبًا . لَابِثِينَ فِيهَا أَحْقَابًا . لَا يَذُوقُونَ فِيهَا بَرْدًا وَلَا شَرَابًا . إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا . جَزَاءً وِفَاقًا{

درحقیقت جہنم ایک گھات ہے۔ سرکشوں کا ٹھکانا۔ جس میں وہ مدتوں پڑے رہیں گے۔ اُس کے اندر کسی ٹھنڈک اور پینے کے قابل کسی چیز کا مزہ وہ نہ چکھیں گے۔ کچھ ملے گا تو بس گرم پانی اور زخموں کا دھوون۔ (اُن کے کرتوتوں) کا بھرپور بدلہ (النبا:26-21)

اس طرح زبردست الفاظ اور سخت جملوں کا استعمال ہوتا ہے۔ اور جب معنی محبتانہ ہوں تو محبت والےالفاظ استعمال ہوتے ہیں ، لہذا ارشاد ہوتاہے:

}وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا{

اس نے اپنے والدین کو اٹھا کر اپنے پاس تخت پر بٹھایا اور سب اس کے آگے بے اختیار سجدے میں جھک گئے(يوسف: 100)

اور جب معنی قابل اعتراض ہوں تو یہ اس معنی کے لیےموزوں لفظ کے ساتھ آتا ہے ، لہذا یہ کہتا ہے:

}أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنْثَى . تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَى{

کیا بیٹے تمہارے لیے ہیں اور بیٹیاں اللہ کے لیے؟ یہ تو بڑی دھاندلی کی تقسیم ہوئی! (النجم: 22)

اور ارشاد ہوتاہے:

}وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ إِنَّ أَنْكَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيرِ{

اور اپنی آواز ذرا پست رکھ، سب آوازوں سے زیادہ بُری آواز گدھوں کی آواز ہوتی ہے (لقمان: 19)

اور معنی کی ادائیگی کے ساتھ اظہار  کی کیفیت کی تصویر کشی ہوتی ہے،اور الفاظ کے ادراک  کی گھنٹی روح کو  ہلا  کر رکھ دیتی ہے، ان کے لیے  جو  معانوں کا ادراک رکھتے ہیں ۔  یہی وجہ ہے کہ اپنے معانی  کی گہرائی اور  اظہار  کی بلاغت کی وجہ سے سننے والوں کے اندرشدید عاجزی (خشوع) پیدا کرتی ہے یہا تک کہ کچھ عرب مفکرین باوجود  کفر و اعناد (حق کی مخالفت)کے اس کے سامنےسجدہ ریز ہوگئے۔

پھر ، بیشک جو شخص قرآن کے الفاظ اور اس کے جملوں کا جائزہ لے تو اسے معلوم ہوگا کہ قرآن حروف کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑتے وقت، ان  کی  أصوات(آوازوں)  کو مدنظر رکھتا ہے، جو آوازوں کے مخارج کے مقام سے نکلیں۔ لہذا جو حروف ایک دوسرے سے  مخارج میں قریب  ہوں وہ کلمات یا جملے میں ایک دوسرے کے قریب رکھے جاتے ہیں۔ اور جب مخارج کے درمیان کوئی خلا ہو تو ان کے درمیان ایسا حرف استعمال کیا جاتا ہے جو منتقلی کی  اجنبی  کیفیت کو ختم کر دیتا ہے۔ اور  بیک وقت، یہ حرف کو خوشگوار اور کانوں پر ہلکا  بناتا ہے جیسا کہ موسیقی میں تکرار ضروری ہے ۔یہ نہیں کہا جاتا  'كالباعق المتدفق' (اچانک ہونے والی موسلادھار بارش)  بلکہ یہ کہا جاتا ہے 'كَصَيِّب' (جیسے بارش ہو )۔ یہ نہیں کہا جاتا  'الهُعْخع')ریشم( بلکہ یہ کہا جاتاہے 'سُنْدُسٍ خُضْر' (سبز  باریک ریشم)۔ اور جب حرفوں کو ایک دوسرے سے دور رکھنے والے معنی میں استعمال کرنا ہو جو اس کے مناسب ہو اور کوئی دوسرا یہ معنی نہیں دے سکتا ہو جیساکہ لفظ 'ضِيزَى' (ظلم کی) اس کی جگہ پر  'ظالمة' یا 'جائرة' (ظالم)  استعمال کرنے کا کوئی جواز نہیں ہوتا ہے حالانکہ معنی ایک ہیں۔ ان الفاظ کے  موزوں (بخوبی) استعمال کے علاوہ، حرف کا واضح طور پرمتعدد آیات میں آنا مثال کے طور پر آیت الکرسی میں حرف ل کو 23 مرتبہ خوشگوار انداز میں دہرایا گیا ہے جس کا سماعت پر ایسااثر پڑتا ہے کہ لوگوں کے کان کھڑے  ہوجاتے ہیں اور وہ  مزید سننا چاہتے ہیں۔

اور اسی طرح  آپ اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ قرآن ایک خاص طرز  پر ہے۔اور  یہ اپنے  نازل  شدہ معنی کا اظہار ان الفاظ سےکرتا ہے جو اس کے شایان شان ہیں،اور الفاظ کے جھرمٹ میں معنوں کے ساتھ۔ آپ اس طرز  کو کسی بھی آیت میں غائب نہیں پائیں گے۔ جہاں تک اس کے معجزہ (اعجاز) کا تعلق ہے وہ اس کے اسلوب میں واضح ہے جو قول  کے ایک خاص طرز  ہونے کے لحاظ سے کسی انسانی كلام سے مشابہت  نہیں رکھتا  اور  کوئی انسانی كلام بھی  اس سے مشابہت  نہیں رکھتا۔اور اس کے  نازل  شدہ  معنی کا اظہار ایسے  الفاظ اور جملوں سے ہوتا ہے جو اس کے معنی کے مناسبت سے ہوں۔اور اس کے الفاظ کا اثر ایسا ہوتا ہےان (لوگوں) کی سماعت پر  جو اس کی بلاغت( فصاحت) کا ادراک کریں اور اس کے معانوں کو (دل کی) گہرائیوں سےسمجھیں، تو وہ عاجز ہوجاتے ہیں حتى  کہ اس کو سجدہ کرنے کے قریب ہو جائیں۔اور وہ لوگ جو اس کی بلاغت کا ادراک نہ کر سکیں جب یہ الفاظ سماعت کرتے ہیں  تو ان الفاظ کی پر ترنم( کھنکھناتی) آواز ان کو موہ لیتی ہے اور الفاظ کی منظم ترتیب  انہیں  عاجز کردیتی ہے جس کے ذریعہ سننے والا خود کو حالتِ خشوع میں پاتاہے حالانکہ وہ  اسے سمجھنے سے قاصر ہے۔ لہذا، یہ ایک ایسا معجزہ ہے جو تاقیامت ایک معجزہ رہے گا


The Qur’ān is the expression revealed to our master Muhammad r with what indicates its meanings. So the Qur’ān is the wording (lafz) and meaning (ma'na) together. The meaning alone is not called the Qur’ān and the wording cannot possibly have any meaning because the basis of composing expressions is to indicate a specific meaning. This is why the Qur’ān has been described as a description of its wording. Thus, Allah I said about it that it is in Arabic when He I said: 

إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ قُرْآَنًا عَرَبِيًّا
“Verily, We have sent it down as an ​Arabic Qur’ān”  [TMQ Yoosuf: 2]

And He I said:

كِتَابٌ فُصِّلَتْ آَيَاتُهُ قُرْآَنًا عَرَبِيًّا
“A Book whereof the Verses are explained in detail;- A Qur’ān in Arabic ”    [TMQ Fussilat: 3]

And He I said: 

قُرْآَنًا عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ
“An Arabic Qur’ān, without any crookedness” [TMQ Zumar: 28]
أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ قُرْآَنًا عَرَبِيًّا
“We have revealed unto you (O Muhammad (saw)) a Qur’ān in Arabic   [TMQ Shurā: 7]
إِنَّا جَعَلْنَاهُ قُرْآَنًا عَرَبِيًّا
“We verily, have made it a Qur’ān in Arabic” [TMQ Zukhruf: 3]

Arabic is the depiction of the Qur’āns’ words and not a description of its meanings, because its meanings are human meanings and not Arabic meanings. It is for the humankind and not for the Arabs only. As for His I saying: 

وَكَذَلِكَ أَنْزَلْنَاهُ حُكْمًا عَرَبِيًّا
“And thus have We sent it down (the Qur’ān) down to be an Arabic judgement (hukman 'arabiyyan)” [TMQ Ra’d: 37]

It means that it is a wisdom translated into the language of the Arabs and not that it is an Arabic wisdom. Here the word 'Arabic' is a description of wording and nothing else. It’s (i.e The Qurans’) wording are not to be described except in Arabic. It has no other designation other than Arabic, whether literally or metaphorically. That is why it is not correct to say that the writing of some of its meanings in another language is Qur’ān. The Arabic language of the Qur’ān is indisputable; its wordings are only in Arabic. 

The Qur’ān is the miracle of the Prophet Muhammad r. Even though there are other miracles of the Prophet r which took place at his r hands different to that of the Qur’ān, as mentioned in the Qur’ān itself and the Sahih works of the Sunnah, the he r did not challenge the people with, the challenge was only by the Qur’ān. That is why we say that the Qur’ān was the miracle of the Prophet Muhammad r with which his Messengership has been proven ever since the Qur’ān was revealed until the Day of Judgement. The Qur’ān rendered the Arabs incapable of bringing something like it, and it challenged them to bring something like it. 

He I said in His challenge to them: 

وَإِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ
“And if you are in doubt concerning that which We have sent down to Our slave, then produce a sura of the like thereof and call your witnesses besides Allah, if you are truthful” [TMQ Baqarah: 23]

And He I said: 

قُلْ فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِثْلِهِ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ
“Say: “Bring then a sura like unto it, and call upon whomsoever you can, besides Allah, if you are truthful”  [TMQ Yūnus: 38]
أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ قُلْ فَأْتُوا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِثْلِهِ مُفْتَرَيَاتٍ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ
“Or they say,”He (the Prophet) forged it (Qur’ān). Say: “Bring you then ten forged suras like unto it, and call whomsoever you can, other than Allah (to your help), if you speak the truth” [TMQ Hūd: 13]
His I challenge to them reached a point where He I told them that they will not be able to bring something like it. He I said: 
قُلْ لَئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآَنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا
“Say: “If the mankind and the jinns were together to produce the like of this Qur’ān, they could not produce the like thereof, even if they helped one another” [TMQ Isrā’: 88]
Surah Baqarah Image

So those challenged by the Qur’ān were unable to being something like the Qur’ān, their inibility to meet this challenge has been proven via recurrent reports (mutawatir) and history has no knowledge of and nor has anybody narrated a report that they (the Arabs) did bring something like it.

This challenge is not specific to those who were addressed; rather it is an open challenge until the day of Judgement because the consideration is for the generality of the wording (lafz) and not the specificity of the cause (sabab). So the Qur’ān challenges the whole of mankind since it was revealed and until the Day of Judgement to bring something like it that is why the Qur’ān is not a miracle for the Arabs who lived in the days of the Messenger r only, and nor is it only for the Arabs, rather it is a miracle for the whole of mankind, In this regard there is no difference between one tribe and another because his I address is to the whole of mankind. He I said: 

}وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ{
“We have not sent you (O Muhammad (saw)), except to all of mankind”   [TMQ Saba: 28]

And because the verses of the challenge are general ('amma), they say: 

}وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ{
“And call upon whomsoever you can, besides Allah” [TMQ Yūnus: 38]

It includes the whole of mankind, and because the Qur’ān informs us of the inibility of mankind and jinn, He I said: 

}قُلْ لَئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآَنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِه{
“Say: “If the mankind and the jinns were together to produce the like of this Qur’ān, they could not produce the like thereof”  [TMQ Isrā’: 88]

The Arab's inibility to produce something similar to this Qur’ān, and all the people's inibility to bring something similar to it is a matter intrinsic to the Qur’ān itself. The Arabs, when they would listen to the Qur’ān, they would approach it and they were taken by the magic of its eloquence, even al-Walid ibn al-Mughira, who had heard the Prophet r reciting the Qur’ān, said to the people:

والله ما منكم رجل أعرف بالأشعار مني ولا أعلم برجزه وقصيده مني والله ما يشبه الذي يقوله شيئاً من هذا، والله إن لقوله الذي يقوله لحلاوة وإن عليه لطلاوة، وانه لمورق أعلاه مغدق أسفله، وإنه ليعلو ولا يعلى عليه
‘By Allah! There is not a man amongst you who is more well-versed in poetry than me, or has more knowledge of its poetic meter (rajazihi) or qasida (ancient Arabic poem with rigid tripartite structure) than me!. I swear! In the saying that he says there is a sweetness and beauty and in it there is grace and elagence. At it’s highest is fresh green and leefy and at its lowest it is copiuos and abundant (with rain). Verily it is the highest and nothing is higher than it’,

This despite the fact that al-Walid did not believe and persisted with his kufr. So the aspects of the miracle relate to the nature of the Qur’ān itself because those who have heard it and those who will hear it until the Day of Judgement are baffled and bewildered by the power of its eloquence by just simply listening to it, even if it is just one sentence: 

}لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ{
“And whose is the kingdom this day?” [TMQ Fussilat: 16]
}وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ{
“On the Day of Resurrection the whole of the earth will be grasped by His Hand”  [TMQ al-Zumar: 67]
}وَإِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْبِذْ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ{
“If you fear treachery from any people throw back (their covenant) to them (so as to be) on equal terms” [TMQ al-Anfāl: 58]
}يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ . يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ{
“O mankind! Fear your Lord and be dutiful to Him! Verily, the earthquake of the Hour (of Judgement) is a terrible thing. The Day you shall see it, every nursing mother will forget her nurseling, and every pregnant one will drop her load, and you shall see mankind as in a drunken state, yet they will not be drunken, but severe will be the Torment of Allah”  [TMQ al-Hajj: 1]

And thus an ayah or ayāt of the Qur’ān would be recited. Its words, style and purpose completely captivates and seizes the emotions of the man.

The miracle of the Qur’ān is clearest in its fluency, purity and eloquence of an astonishing level. This is indicated in the miracilous style of the Qur’ān. Its style has clarity (Wuduh), intensity (Quwwah) and beauty (Jamal) that man cannot match.

Style (uslub) is the arrangement of meanings in assorted words or it is the manner of expression to highlight meanings with lingusitic expressions, and the clarity of the style comes from the projection of the meanings intended to be expressed in the phrase with which they are expressed: 

}وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَا تَسْمَعُوا لِهَذَا الْقُرْآَنِ وَالْغَوْا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُونَ{
“And those who disbelieve say: “Listen not to this Qur’ān, and make noise in the midst of its (recitation) that you may overcome” [TMQ Fussilat: 26]

The intensity (Quwwah) of the style is represented by the choice of words compatible to the meaning they give. Thus, the delicate meaning is expressed with the delicate word, and the emotive meaning is expressed with the emotive word and the loathed meaning is expressed with the loathed word and so on and so forth...

}وَيُسْقَوْنَ فِيهَا كَأْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِيلًا . عَيْنًا فِيهَا تُسَمَّى سَلْسَبِيلًا{
“And they will be given to drink there a cup (of wine) mixed with Zanjabil (ginger, etc), and a spring there, called Salsabil” [TMQ ad-dahr: 17-18]
}إِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا . لِلطَّاغِينَ مَآَبًا . لَابِثِينَ فِيهَا أَحْقَابًا{
“Truly, Hell is a place of ambush, a dwelling place for the Taghun (Those who transgress the limits set by Allah). They will abide therein for ages”   [TMQ An-Naba: 21-23]
}تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَى{
“That indeed is a division most unfair” [TMQ Najm: 22]
}إِنَّ أَنْكَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيرِ{
“Verily, the harshest of all voices is the voice (braying) of the ass”  [TMQ Luqmaan: 19]

As for the beauty of the uslub (style) this is to be found in the choice of the most pure and best phrases fitting with the meaning they conveyed and with the words and meanings, which accompany them in the expressions: 

}رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ * ذَرْهُمْ يَأْكُلُوا وَيَتَمَتَّعُوا وَيُلْهِهِمُ الْأَمَلُ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ{
“Perhaps (often) will those who disbelieve wish that they were Muslims. Leave them to eat and enjoy, and let them be preoccupied with (false) hope. They will come to know”  [TMQ Hijr : 2-3]

The one who examines the Qur’ān will find a lofty elevation in which the style of the Qur’ān is characterised in terms of its clarity, intensity and beauty. Listen to this clarity, intensity and beauty: 

}وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُجَادِلُ فِي اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَلَا هُدًى وَلَا كِتَابٍ مُنِيرٍ . ثَانِيَ عِطْفِهِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّه{
“And among men is he who disputes about Allah, without knowledge or guidance, or a Book giving light (from Allah,- Bending his neck in pride, and leading (others) too (far) astray from the Path of Allah” [TMQ al-Hajj: 8-9]

Surah Hajj

}هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ فَالَّذِينَ كَفَرُوا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِنْ نَارٍ يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوسِهِمُ الْحَمِيمُ * يُصْهَرُ بِهِ مَا فِي بُطُونِهِمْ وَالْجُلُودُ * وَلَهُمْ مَقَامِعُ مِنْ حَدِيدٍ * كُلَّمَا أَرَادُوا أَنْ يَخْرُجُوا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ أُعِيدُوا فِيهَا وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ{
“These two opponents (believers and disbelievers) dispute with each other about their Lord; then as for those who disbelieve, garments of fire will be cut out for them, boiling water will be poured down over their heads. With it will melt or vanish away what is within their bellies, as well as their skins. And for them are hooked rods of iron (to punish them). Every time they seek to get away therefrom, from anguish, they will be driven back therein, and (it will be) said to them: “Taste the torment of burning”  [TMQ al-Hajj: 19-22]
}يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَنْ يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ وَإِنْ يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَا يَسْتَنْقِذُوهُ مِنْهُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ{
“O mankind! A similitude has been coined, so listen to it (carefully): Verily! Those on whom you call besides Allah, cannot create (even) a fly, even though they combine together for the purpose. And if the fly snatched away a thing from them, they wouldhave no power to release it from the fly. So weak are (both) the seeker and the sought” [TMQ al-Hajj: 73]

The Qur’ān is a special genre (tiraz) of expression. Its arrangement of words (nazm) does not follow the standard method of metrical and rythmic poetry (As-shi'r al-mawzun al-muqaffa), nor is it according to the method of free prose (An-nathm al-mursal), nor is it on the method of an-nathr al-muzdawij (has dual resemblance to rhymed and free prose) or an-nathr al-masjooh (rhymed prose). It is a unique style, which the Arabs had never come across before.  

The Arabs, due to the extraordinary effect that the Qur’ān had on them did not know from what aspect did the Qur’ān reach this wondrous nature (i'jaz). So they started to say, as has been mentioned in the Qur’ān: 

}إِنَّ هَذَا لَسِحْرٌ مُبِينٌ{
“This is indeed clear magic” [TMQ Yūnus: 76]

And they began to say that these were the words of a poet and that he is a soothsayer. That is why Allah I replied to them when he I said: 

}وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلًا مَا تُؤْمِنُونَ * وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ{
“It is not the word of a poet, little is that you belive! Nor is it the word of a soothsayer, little is that you remember!” [TMQ Haaqqah: 41-42]

The fact that the Qur’ān is of a special genre and a unique structure is clear in every respect. So you will find the Qur’ān saying: 

}وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ{
“(Allah) will disgrace them and give you victory over them and heal the breasts of a believing people”  [TMQ Tawba: 14]

And it says: 

}لنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ{
“By no means shall you attain peity (al-birr) unless you spend (in Allah's Cause) of that which you love”  [TMQ Imrān: 92]

However these verses are not peotry, but rather a type of prose which is unique. When you find the Qur’ān saying this type of prose: 

}وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ * وَمَا أَدْرَاكَ مَا الطَّارِقُ * النَّجْمُ الثَّاقِبُ * إِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَمَّا عَلَيْهَا حَافِظٌ * فَلْيَنْظُرِ الْإِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ * خُلِقَ مِنْ مَاءٍ دَافِقٍ * يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ {
“By the heaven, and at-Tariq (the night-comer, that is, the bright star); and what will make you to know what at-Tariq (night-comer) is? (It is) the star of piercing brightness; There is no human being but has a protector over him (or her). So let man see from what he is created! He is created from a water gushing forth - . Proceeding from between the back-bone and the ribs”  [TMQ Taariq: 1-7]

Which is prose, and far from poetry in every respect. You also find it saying: 

}وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّهِ وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَحِيمًا{
“We sent no Messenger, but to be obeyed by Allah's leave If they (hypocrites), when they had been unjust to themselves, had come to you (Muhammad (saw)) and begged Allah's forgiveness, and the Messenger had begged forgiveness for them: indeed, they would have found Allah All-Forgiving, Most Merciful” [TMQ Nisā’: 64]
}فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا{
“But no, by your Lord, they can have no imān, until they make you the judge in all disputes between them, and find in themselves no resistance against your decisions, and accept them with full submission” [TMQ Nisā’: 65]

It also lengthens the passage and style in prose in its saying: 

}وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا * وَالْقَمَرِ إِذَا تَلَاهَا * وَالنَّهَارِ إِذَا جَلَّاهَا * وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا{
“And by the sun and its brightness; And by the moon as it follows the sun; And by the day as it shows up (the sun's) brightness; And by the night as it conceals it (the sun)”  [TMQ Shams: 1-4]

It also shortens the passage and breath (nafas) in prose, even though both are examples of prose in the form of passage. At times you will find it creative in free prose, thus it will be free in speech. So it says: 

}يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الَّذِينَ قَالُوا آَمَنَّا بِأَفْوَاهِهِمْ وَلَمْ تُؤْمِنْ قُلُوبُهُمْ وَمِنَ الَّذِينَ هَادُوا سَمَّاعُونَ لِلْكَذِبِ سَمَّاعُونَ لِقَوْمٍ آَخَرِينَ لَمْ يَأْتُوكَ يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ مِنْ بَعْدِ مَوَاضِعِهِ يَقُولُونَ إِنْ أُوتِيتُمْ هَذَا فَخُذُوهُ وَإِنْ لَمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوا وَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ فِتْنَتَهُ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهُ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا أُولَئِكَ الَّذِينَ لَمْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يُطَهِّرَ قُلُوبَهُمْ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَلَهُمْ فِي الْآَخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ{
“O Messenger! Let not those who hurry to fall into disbelief grieve you, of such who say: “We belive” with their mouths but their hearts have no faith. And of the Jews are men who listen much and eagerly to lies - listen to others who have not come to you. They change the words from their places; they say,”If you are given thsi, take it, but if you are not given thsi, then beware!” And whomsoever Allah wants put in fitna (error), you can do nothing for him agisnt Allah. Those are the ones whose hearts Allah does not want to purify; for them there is a disgrace in this world, and in the Hereafter a great torment”               [TMQ Mā’idah: 41]

You will find it creative in rhymed prose, thus it will speak in rhymed prose. So it says: 

}يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ * قُمْ فَأَنْذِرْ * وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ * وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ * وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ * وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ * وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ{
“O you (Muhammad (saw)) enveloped (in garments)! Arise and warn! And your Lord (Allah) magnify! And your garments purify! And keep away from ar-rujz (the idols)! And give not a thing in oreder to have more (or consider not your deeds of Allah's obedienceas a favour to Allah). And be patient for the sake of your Lord”  [TMQ Muddathir: 1-7]

You will find it superior in izdiwaj (prose with successive but different rhyms) so it says: 

}أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ * حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ * كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ * ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ * كَلَّا لَوْ تَعْلَمُونَ عِلْمَ الْيَقِينِ * لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ{
“The mutual rivalry for piling up of wordly things diverts you. Until you visit the graves. Nay! You shall come to know! Again, Nay! You shall come to know! Nay! If you knew with a sure knowledge. Verily, you shall see blazing fire!”  [TMQ Takaathur: 1-6]

You will find it lengthening the izdiwaj, so the Qur’ān states: 

}قُتِلَ الْإِنْسَانُ مَا أَكْفَرَهُ * مِنْ أَيِّ شَيْءٍ خَلَقَهُ * مِنْ نُطْفَةٍ خَلَقَهُ فَقَدَّرَهُ * ثُمَّ السَّبِيلَ يَسَّرَهُ * ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَهُ * ثُمَّ إِذَا شَاءَ أَنْشَرَهُ * كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَا أَمَرَهُ * فَلْيَنْظُرِ الْإِنْسَانُ إِلَى طَعَامِهِ * أَنَّا صَبَبْنَا الْمَاءَ صَبًّا * ثُمَّ شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّا * فَأَنْبَتْنَا فِيهَا حَبًّا * وَعِنَبًا وَقَضْبًا * وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا * وَحَدَائِقَ غُلْبًا * وَفَاكِهَةً وَأَبًّا{
“Be cursed (the disbelieving) man! How ungrateful he is! From what thing did He create him? From nutfa (semen) He craeted them, and then set him due proportion; Then He makes the Path easy for him; Then He causes him to die, and puts him in a grave; Then, when it is His Will, He will resurrect him (again). Nay, but (man) has not done what He commanded him. Then let man look at his food. That We pour forth water in abundance, and We split he earth in clefts, and We cause therin the grain to grow. And grapes and clover plants (green fodder for the cattle). And olives and date-palms. And gardens, dense with many trees. And fruits and Abba (herbage etc)”   [TMQ Abasa: 17-31]

Whilst proceeding on a certain rhyme it will move to another type of rhyme prose. So while prooceeding in rhyme in the following: 

}فَإِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ * فَذَلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ * عَلَى الْكَافِرِينَ غَيْرُ يَسِيرٍ{
“Then, when the Trumpet is sounded; Truly, that Day will be Hard Day. Fra from easy for the disbelievers” [TMQ Muddathir: 8-10]

It will abandon it in the verse immediately after it, so it says: 

}ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا * وَجَعَلْتُ لَهُ مَالًا مَمْدُودًا  *وَبَنِينَ شُهُودًا * وَمَهَّدْتُ لَهُ تَمْهِيدًا * ثُمَّ يَطْمَعُ أَنْ أَزِيدَ * كَلَّا إِنَّهُ كَانَ لِآَيَاتِنَا عَنِيدًا * سَأُرْهِقُهُ صَعُودًا{
“Leave Me Alone (to deal) with whom I created Alone (that is, al-walid ibn al-Mughira al-Makhzumi)! And then granted him resources in abundance. And children to be by his side! And made life smooth and comfortable for him! After all that he desires - that I should give more; Nay! Verily, he has been stubborn and opposing Our Ayaat (signs/proofs). I shall oblige him to face a severe torment!”                  [TMQ Muddathir: 11-17]

Then it will move from this rhyme to another type in the verse that immediatley follows it, so it says: 

}انَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ * فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ * ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ * ثُمَّ نَظَرَ * ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ * ثُمَّ أَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرَ{
“Verily, he thought and plotted; So let him be cursed, how he plotted! Then he thought;Then he frowned and he looked in bad tempered way; Then he turned back and he was proud” [TMQ Muddathir: 18-23]

In this manner examine the whole Qur’ān, you will not find it adhering to anything from the well-known way of the Arabs in terms of poetry or prose in their various types, and nor does it resemble any saying from the sayings of the Arabs or any other people.

Then you will find its style is clear, intense and beautiful which renders meanings in a manner of expression which depicts the meanings in the most accurate of depictions. When the meaning is delicate you find it saying: 

}إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ مَفَازًا * حَدَائِقَ وَأَعْنَابًا * وَكَوَاعِبَ أَتْرَابًا* وَكَأْسًا دِهَاقًا{
“Verily, for the Muttaqun (Godfearing), there will be a success (Paradise); Gardens and grapeyards. And maidens of equal age. And a full cup (of wine)   [TMQ Naba: 31-34]

Using delicate words and soft, flowing sentences.

And when the meaning is forceful, one will find it saying: 

}إِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا * لِلطَّاغِينَ مَآَبًا * لَابِثِينَ فِيهَا أَحْقَابًا * لَا يَذُوقُونَ فِيهَا بَرْدًا وَلَا شَرَابًا * إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا * جَزَاءً وِفَاقًا{
“Truly, Hell is a place of ambush, a dwelling place for the Taghun (Those who transgress the limits set by Allah). They will abide therein for age, nothing cool shall they taste therin, nor any drink. Except boiling water, and dirty wound discharges. An exact recompense (according to their evil crimes)”     [TMQ Naba: 21-26]

Thus using grand words and strong sentences. And when the meaning is pleasant it uses pleasant words, so it says: 

}وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا{
“And he raised his parents to the throne and they fell down before him prostrate” [TMQ Yoosuf: 100]

And when the meaning is objectionable it comes with the appropriate word for this meaning, so it says: 

}أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنْثَى * تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَى{
“Is it for you the males and for Him the females? That indeed is a division most unfair” [TMQ Najm: 22]

And it says: 

}وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ إِنَّ أَنْكَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيرِ{
“And lower your voice. Verily, the harshest of all voices is the voice (braying) of the ass” [TMQ Luqman: 19]

The rendering of meaning had been accompanied with this manner of expression which depicts the meanings, giving attention to words which have the rhyme that moves the soul when conceiving the meanings and comprehending them. That is why it evokes in the listener who comprehends, due to the depth of its meanings and the eloquence of its expression a deep sense of awe humility until some of the eloquent Arab thinkers almost prostrated before it despite their disbelief and obstinacy.

Then, indeed the one who scrutinises the words of the Qur’ān and its sentences will find that the Qur’ān gives attention to, when placing letters together, the sounds that come out from their places of articulation. So the letters close to each other in articulation are placed close to each other in a word or sentence. And when there is a gap betwen the points of articulation, they are separated with a letter which eliminates the strangeness of the transition. And at the same time it makes a letter pleasant in articulation and light on the ears to be repeated like the chorus in music. It does not say 'kal ba'iq a-mudfiq' but 'kasayyib'. Nor does it say 'al-hu'khu'' but 'sundusu khudrin'. And when it is necessary to use letters which are placed distanced from each other in a meaning which befits it and nothing else gives that meaning like the word 'deeza', there is no point in using the word 'zalima' or 'ja'ira' in its place even though the meaning is one. In additon to this precision in usage, the letter which is in chorus is clearly found in verses with some frequency. The Verse of the Throne (ayatul kursiyy) for example has the letter lam repeated in it 23 times in a pleasant manner which has an impact on the hearing such that it makes people prick up their ears and want to hear more.

white and red floral frame

Holy Quran

In this manner, you will find that the Qur’ān is a special genre. And you will find it reveals all of its meanings in the expression that befits it, in the words around it and the meanings with it. You will not find that missing in any of its ayat. Its miraculousness (i'jaz) is clear in its style in terms of being a special genre of speech which does not resemble any speech of human beings or vice versa, and in terms of the application of meanings in words and sentences which befit them and in terms of the effect/impression of the words on the hearing of the one who comprehends its eloquence and looks deeply into its meanings, so he becomes humble to the point of almost prostating to it. And the effect it has on the hearing of the one who does not comprehend its eloquence, the ring and sound of these words captivate him and hold him spellbound in an incapacitating manner to which the listener humbles himself by force even though he may not understand its meanings. Therefore, it is a miracle which will remain a miracle until the Final Hour.

Assalam u Alaikum! I'm Muhammad Usman Ghias. This course is totally free, no sponsored only for the Sake of Allah Almighty, read our latest blogs and news and learn Islam is the most Modern Deen which provides information in every era of Life.

🌎 Find Me Here: 
My Courses:  https://courses.codcrafters.com 

Ask Queries: https://www.codcrafters.com/forum/Islam-17

Course Blogs: https://blogs.codcrafters.com

Courses News: https://news.codcrafters.com

YouTube:  https://www.youtube.com/@codcrafters  
Rating
0 0

There are no comments for now.

to be the first to leave a comment.